ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قومی یکجہتی کے لیے جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی حدبندی ناگزیر:پنتھرس پارٹی

قومی یکجہتی کے لیے جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی حدبندی ناگزیر:پنتھرس پارٹی

Tue, 22 Jan 2019 01:13:19    S.O. News Service

جموں، 21جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ با ر ایسوسی ایشن کے سینئر منتخب رکن اور ماہر آئین پروفیسربھیم سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ اور جموں وکشمیرکے گورنرکے نام ایک پرزور پیغام میں کہا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کی جموں وکشمیر تک توسیع کی جائے جہاں کے لوگ1954سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔انہوں نے ہندستانی پارلیمنٹ کو یاد دلایا کہ جموں وکشمیر ہندستانی پارلیمنٹ کی صر ف ایک کالونی نہیں بلکہ ہندستان کا ایک آئینی حصہ ہے کیونکہ جموں وکشمیر کا بقیہ 575ریاستوں کی طرح 1947میں الحاق نامہ پر دستخط کے ذریعہ ہندستان میں انضمام ہوا تھا ۔پنتھرس سپریمو نے جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک پر حریت کانفرنس کے نمائندوں سمیت سابق اراکین اسمبلی اور تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی میٹنگ بلانے کے لئے زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ گورنر کو ریاست کی سیاسی قیادت کو اعتما د میں لینا چاہئے اور نوکرشاہوں کو مشیر کا نام دیکر جموں وکشمیر کا حکمراں نہیں بنایا جانا چاہئے۔پہلا مشن تینوں خطوں لداخ، کشمیر او ر جموں کے لوگوں کو امن بحالی کے عمل میں شامل کیاجانا ہونا چاہئے او ر جموں وکشمیر کی تاریخ سے تمام سیاہ دھبوں کو مٹایا جانا چاہئے۔1950سے حکمرانی کرنے والے نئے سیاست داں گورنر اورمرکزی حکومت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے ساتھ بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے حکمرانوں نے قانون کی حکمرانی کا مکمل طورپر صفایا کردیا ہے۔پہلا المیہ 2002میں ہوا جب اسمبلی حلقوں کی حد بندی پرنیشنل کانفرنس حکومت نے 1957میں تیار کردہ نام نہاد نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کرکے 2026تک روک لگا دی۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پنتھرس پارٹی کو چھوڑ کر کسی بھی سیاسی جماعت نے اس ترمیم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔پنتھرس پارٹی اس ترمیم کے خلاف سڑکوں سے لیکر ہندستانی پارلیمنٹ کے دروازہ تک اور جموں وکشمیر ہائی کورٹ سے لیکر ہندستانی سپریم کورٹ تک جدوجہد کررہی ہے۔جموں وکشمیر آئین کا سیکشن 142غیرقانونی، غیر آئینی اور قانون کی حکمرانی اور آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے برعکس ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر وادی کے چار لاکھ ووٹروں کو وادی سے منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا جن میں سے بیشتر جموں میں آباد ہوگئے اور جموں میں وادی کے مقابلہ پانچ لاکھ ووٹر زیادہ ہیں۔کشمیر میں 46اسمبلی سیٹیں ہیں جبکہ جموں میں 37اسمبلی سیٹیں ہیں اور جموں کا رقبہ تقریباًً 28ہزار اسکوائر کلومیٹر اور وادی کا رقبہ 12000اسکوائر کلومیٹر ہے۔جموں صوبہ کے ساتھ ایک اور امتیاز یہ ہے کہ جموں میں 2لوک سبھا حلقہ ہیں جبکہ وادی میں 3لوک سبھا حلقے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ کشمیر میں تین لوک سبھا حلقے جاری رکھے جائیں لیکن جموں کے ساتھ انصا ف کئے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر اور جموں کے لوگ برسوں سے کئی اسباب سے مصیبت میں مبتلا ہیں ۔ ریاست کی تشکیل نو اور حد بندی ہی واحد راستہ ہے تینوں خطوں لداخ، وادی کشمیر اور جموں صوبہ کے لوگوں کو انصاف اور برابری فراہم کرنے کا۔گورنر اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ہنگامی میٹنگ طلب کرکے ایک مشترکہ حکمت عملی تیا ر کریں ۔ ریاست میں قانون کی حکمرانی کے لئے اسمبلی حلقوں کی حد بندی نہایت ضروری ہے جس سے تینوں خطوں کے لوگ 70برسوں سے محروم ہیں۔


Share: